یہ حد بھی کچھ ایسی بات ہے جو وزیر اعظم ٹوبگے نے بات کی تھی۔
کرپٹو کرنسی، جسے بعض اوقات کرپٹو بھی کہا جاتا ہے، ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جسےکمپیوٹر نیٹ ورک کے ذریعے محفوظ آن لائن خریدوفروخت کے لیے زرِمبادلہ کے طور پر استعمال کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ چونکہ یہ صرف آن لائن موجود ہوتی ہے اس لیے اس کا کوئی مادی وجود نہیں ہوتا۔
بٹ کوائن ایک ڈیجیٹل کرنسی اور پیئر ٹو پیئر پیمنٹ نیٹورک ہے جو آزاد مصدر دستور پر مبنی ہے اور عوامی نوشتہ سودا کا استعمال کرتی ہے۔ بٹ کوئن کمانے یا حاصل کرنے میں کسی شخص یا کسی بینک کا کوئی اختیار نہیں۔ یہ مکمل آزاد کرنسی ہے، جس کو ہم اپنے کمپیوٹر کی مدد سے بھی خود بنا سکتے ہیں۔ بٹ کوئن کرنسی کا دیگر رائج کرنسیوں مثلا ڈالر اور یورو سے موازنہ کیا جا سکتا ہے، لیکن رائج کرنسیوں اور بٹ کوئن میں کچھ فرق ہے۔ سب سے اہم فرق یہ ہے کہ بٹ کوئن مکمل طور پر ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جس کا وجود محض انٹرنیٹ تک محدود ہے، خارجی طور پر اس کا کوئی کاغذی یا دھاتی وجود نہیں۔ اسی طرح بٹ کوئن کرنسی کے پیچھے کوئی طاقتور مرکزی ادارہ مثلا مرکزی بینک نہیں ہے اور نہ کسی حکومت نے اب تک اسے جائز کرنسی قرار دیا ہے، اسی وجہ سے ریاستہائے متحدہ امریکا کے وزارت خزانہ نے اسے غیر مرکزی کرنسی قرار دیا ہے، کیونکہ اس کرنسی کو ایک شخص براہ راست دوسرے شخص کو منتقل کر سکتا ہے، اس کے لیے کسی بینک یا حکومتی ادارہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تاہم انٹرنیٹ کے ذریعہ بٹ کوئن کو دیگر رائج کرنسیوں کی طرح ہی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
امریکہ کے اس اقدام سے نئے سرمایہ کاروں جیسے کہ بلیک راک جیسے بڑی کمپنیوں کو یہ اجازت مل گئی ہے کہ وہ بِٹ کوائن کی دنیا میں قدم رکھ سکیں یہ سوچے بغیر کہ ان کے ڈیجیٹل والٹ یا کرپٹو ایکسچینجز کی صورتحال کیا ہے۔
مارکیٹ میں کل مالیت کے اعتبار سے آج کے دن کرپٹو کرنسی کی قیمتیں
اگر آپ یہ جاننے چاہتے ہیں کہ حالیہ ہفتوں میں بٹ کوائن کی قدر میں اضافے کی وجوہات کیا ہیں تو یہاں کلک کیجیے۔
’بہادری اور شجاعت‘ کا تمغہ مگر جنگی جرائم کا بھی الزام: افغان جنگ میں شریک آسٹریلوی فوجی کی کہانی
جب میں ویب پر اپنی رقم دے کر خوش تھا تو بلوک چین ایسے میں مجھے فوراً معلوم ہوا کہ بٹ کوائن کو آن لائن منشیات خریدنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جو ایک ایسی چیز تھی جس کی میں نے کبھی کوشش نہیں کی۔ بٹ کوئن کو آپ اپنی ہفتہ وار خریداری کے لیے استعمال نہیں کر سکتے۔ مجھے یہ اس لیے معلوم ہے کیونکہ ایک سٹور پر لوگ مجھ پر ہنس چکے ہیں۔
امریکہ-ایران مذاکرات کا امکان: اسلام آباد کا فائیو سٹار ہوٹل حکومتی تحویل میں، جڑواں ٹوکن شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ اور بھاری ٹریفک معطل
گذشتہ چند ہفتوں میں رونما ہونے والے ان واقعات کے بعد سے ان مالیاتی اداروں کو ’بِٹ کوائن وہیل‘ کہا جانے لگا ہے۔
اس کے بارے میں ایک کتاب کے مصنف مارک ہنٹر کا کہنا ہے کہ سکوں کے ساتھ کیا ہوا، اس کے بارے میں اب بھی ابہام موجود ہے، لیکن یہ فرض کیا جاتا ہے کہ چوروں کی طرف سے اکثریت کو بازار میں فروخت کر دیا گیا ہے۔
تو دوسری کون سی تنظیمیں یا افراد بٹ کوائن وہیل ہیں؟ اور دولت میں تبدیلی کا بٹ کوائن پر کیا اثر پڑے گا؟
مائیکل سائلر معروف انویسٹمنٹ کمپنی مائیکرو سٹریٹجی کے سی ای او ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
سعودی عرب کا پاکستان کو اضافی تین ارب ڈالر قرض دینے اور موجودہ پانچ ارب ڈالر کے ڈپازٹس میں توسیع کتنی اہم ہے؟