اس مضمون میں چینی متن شامل ہیں۔ موزوں معاونت کے بغیر آپ کو، چینی حروف کے بجائے سوالیہ نشان، خانے یا دیگر نشانات نظر آسکتے ہیں۔
یہ عمل متنازع بھی ہے کیونکہ دنیا بھر میں لوگ سب سے پہلے تصدیق کی دوڑ میں رہتے ہیں اور اسی سبب برقی توانائی بھی ضائع ہوتی ہے اور پاکستان میں بھی کرپٹو کرنسی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔
کرپٹو کرنسی کی قدر میں غیر یقینی تبدیلیاں ان منصوبوں کے بنیادی نظریات کے خلاف بھی جا سکتی ہیں جن کی حمایت کے لیے کرپٹو کرنسیز بنائی گئی تھیں۔ مثال کے طور پر، لوگ بِٹ کوائن کو ادائیگی کے نظام کے طور پر استعمال کرنے میں کم دلچسپی لیں گے کیونکہ انہیں اس بات کا یقین نہیں کہ اگلے دن اس کی قیمت کیا ہو گی۔
امریکہ کے اس اقدام سے نئے سرمایہ کاروں جیسے کہ بلیک راک جیسے بڑی کمپنیوں کو یہ اجازت مل گئی ہے کہ وہ بِٹ کوائن کی دنیا میں قدم رکھ سکیں یہ سوچے بغیر کہ ان کے ڈیجیٹل والٹ یا کرپٹو ایکسچینجز کی صورتحال کیا ہے۔
ہمارے معاشرے میں ایک عمومی مزاج رائج ہے کہ جب کبھی بھی ترقی کرتی ہوئی دنیاکے ساتھ کوئی نئی چیز وجود میں آتی ہے تو عوام الناس اس کا شرعی حکم جاننے کے لیے علمائے کرام کی طرف رجوع کرتی ہے جو کہ بلا شبہ ایک قابل تعریف امر ہے لیکن ساتھ ایک افسوس ناک امر یہ ہوتا ہے کہ اگر علما اس پر محققین کی آراء کی روشنی میں حرمت کا فتوی دیتے ہیں تو علماء دقیانوس اور ترقی سے دور شخصیات جیسے القابات سے نوازے جاتے ہیں اور اگر علماء محققین کی آراء کو سامنے رکھتے ہوئے اس کے حلال ہونے کا فتوی دیتے ہیں تو لوگ اس میں سرمایہ کاری بغیر سوچے سمجھے شروع کر دیتے ہیں اور اگر اس میں نقصان ہو جائے تو علماء کو ہدف تنقید بنایا جاتایہ رویہ قطعا غیر مناسب رویہ ہے حالانکہ نبی ﷺ نے بیان فرمایا : إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ اخطا فلہ أَجْرٍ – یعنی : جب فیصلہ کرنے والا کوئی فیصلہ اپنے اجتہاد سے کرے اور فیصلہ صحیح ہو تو اسے دو ثواب لتے ہیں اور جب کسی فیصلے میں اجتہاد کرے اور غلطی کر جائے تو اسے ایک ثواب ( اپنی محنت کا ) ملتا ہے۔ غور فرمائیں کہ نبی ﷺ نے دونوں صورتوں میں علماء کے لیے ثواب اور نیکی کی بشارت دی ہے نہ کہ یہ فرمایا کہ اگر وہ غلط ہوں تو ان کو ہدف تنقید بنایا جائے ۔
ماہرین کے مطابق بٹ کوائن دراصل ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے، جو نہ کسی بینک سے منسلک ہے نہ کسی حکومت کے تابع ہے اور آپ اسے صرف انٹرنیٹ پر خرید، فروخت یا استعمال کر سکتے ہیں لیکن سوال یہ ہے یہ کرنسی آتی کہاں سے ہے؟ تو اس کاجواب ہے مائننگ اور مائننگ میں طاقت ور کمپیوٹرز مشکل ریاضیاتی سوالات حل کرتے ہیں اور جو یہ سوال سب سے پہلے حل کرے اْسے انعام کے طور پر بٹ کوائن ملتا ہے اور یہی عمل بٹ کوائن کے نیٹ ورک کو محفوظ بھی بناتا ہے جسے بلاک چین کہتے ہیں، یعنی ایک ایسا ڈیجیٹل رجسٹر جو کسی ایک کے پاس نہیں بلکہ پوری دنیا میں بیک وقت موجود ہوتا ہے۔
اسلام آباد میں مبینہ طور پر ’زہریلا‘ جُوس پینے سے شہریوں کی اموات، حقیقت کیا ہے؟
بٹ کوائن کو قانونی کرنسی قرار دے دیا جائے بلوک چین تو آپ کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟
سامان کے لیے ضروری ہے کہ اس کی مقدار اور جنس معلوم ہو۔ اگر ایسا نہ ہو تو خرید وفروخت کے معاملے میں جہالت پائی جائے گی جس سے شریعت مطہرہ نے روکا ہے۔ (۱۳)
گذشتہ چند ہفتوں میں رونما ہونے والے ان واقعات کے بعد سے ان مالیاتی اداروں کو ’بِٹ کوائن وہیل‘ کہا جانے لگا ہے۔
ہاٹ والٹ انٹرنیٹ سے منسلک ہوتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس تک رسائی تیز میم کوائن ہوتی ہے اور اس سے رقوم کی منتقلی بھی آسان ہے۔
ٹرمپ کا اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے دور کا عندیہ: ایران، امریکہ مذاکراتی عمل کے بارے میں ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟
چونکہ بٹ کوائن کا نظام بلاک چین ٹیکنالوجی پر قائم ہے اور اس میں تمام ریکارڈ نیٹ ورک میں موجود تمام کمپیوٹرز/ نوڈز میں ہوتا ہے۔ مائیر کی یہ ذمے داری ہوتی ہے کہ ٹرانزیکشن جس کا ایک مخصوص کوڈ ہوتا ہے وہ اس کو چیک کرتا ہے کہ یہ بٹ کوائن حسن کے پاس کیسے آیا اور وہ اس ٹرانزیکشن سے قبل اس کو کسی اور جگہ پر خرچ تو نہیں کر چکا۔ جب مائینز مطمئن ہو جاتا ہے تو وہ اس ٹرانزیکشن کی تصدیق کر دیتا ہے اور بٹ کوائن حسن کی ملکیت سے نکل کر زید کی ملکیت میں آ جاتا ہے۔ اس عمل کو مائیٹنگ کہتے ہیں۔ اس کو پروف آف ورک بھی کہا جاتا ہے۔ یہ عمل انتہائی محنت طلب اور بے انتہا مہنگا ہوتا ہے۔ اب سوال یہ آتا ہے کہ جو شخص اتنی محنت اور سرمایہ خرچ کر کے اس تصدیق کے عمل کو سر انجام دیتا ہے اس میں اس کا کیا فائدہ ہے؟
حالانکہ روس وچ کرپٹوکرنسی قانونی اے، پر اصل وچ روسی روبل توں علاوہ کسے وی مدرا نال سامان خریدنا غیرکانونی اے۔ نیم اتے نیم جو کہ بٹکون تے لاگوُ ہندے ہن ممکنہ طور تے سامان کرپٹوکرنسی پرنالیاں وچ پھیل جاندے ہن۔[۱۴]